جِِگر کا زخم جو رنج و غم سہنے سے پڑ جائے ؛ (مجازاً) صدمہ.
پڑ گئی لالہ پہ جو اوس کی نظر
بک بیک تازہ ہوئے داغ ِ جگر
(۱۸۲۸ ، مثنوی مہر و مشتری ، ۲۳ ).
جس کو ہے داغ ِ جگر اُس کو نہین آرام دل
عِشق میں پکَا نہیں وہ بے خبر ہے خامِ دل
( ۱۸۷۹ ، حمل خاں ( اردو نامہ ، کراچی جولائی ، ۱۹۷۴ ، ۵۲ ).
نادانی ہے یہ گِدِیر زمیں طوف قمر کا
سمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ ِ جگر کا
( ۱۹۲۴ ، بان٘گِ درا ، ۲۴۱ ).
[ داغ + جگر (رک) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .