رنج و ملال ، بدنامی یا ذِلّت وغیرہ کو دُور کرنا ، بُرائی کو مِٹا دینا.
کدورت کا اب نام کھویا گیا
دل لالہ سے داغ دھویا گیا
( ۱۷۳۹ ، کلیات سراج ، ۸۶ ).
غُربت میں کون داغ جُدائی کے دھو سکے
ممکن نہیں کہ ابر بھی یاں آکے رو سکے
(۱۸۷۰ ، الماس درخشاں ، ۳۹۴ ).
دامان زندگی پہ تھے زِندہ دِلی کے داغ
یہ داغ ہم نے اپنے ہی اشکوں سے دھوئے ہیں
( ۱۹۸۳ ، بے نام ، ۱۴۳ ).
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .