دِل ہے قائم رشکِ صد سروِ چراغ
ہجر میں اُس گُل کے ازیس کھائے داغ
رنج کھین٘چے تھے داغ کھائے تھے
دِل نے صدمے بڑے اُٹھائے تھے
کیا کہیں تُجھ سے غذِا اپنی ترے عِشق میں ہم
داغ کھا بَیٹھے کبھی اور کبھی غم کھا بیٹھے
مُجھے افسوس ہے صحیح اردو یہ ہوتی کہ مُجھے داغ لگا ہے یا میں نے داغ کھایا ہے.
(۱۹۵۵ ، نکتۂ راز ، ۳۳۹ ).
وہ نقشہ جسے دیکھ مہ داغ کھائے
وہ صُورت کہ تصویر کا حیرت آئے
حکم سے کیوں کر تجاوز کرتی خوش بھی انتہا کی ہوئی کہ بدر سیماے حُسن بے مثال کے جام با کمال پر داغ کھائے ہوہئے تھی.
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۴۳۴ ).
لکھنؤ کے آتش مِزاجوں کو . . . تاب کہاں وہ پہلے ہی داغ کی گرم بازاری سے داغ کھائے ہوئے بیٹھے تھے.
(۱۹۰۵ ، مضامین چکبست ، ۹۹ ).
جلوۂ لالہ رقیبوں کو دِکھاتی ہے بہار
داغ کھانے پر مرے کیا داغ کھاتی ہے بہار
نبی کی اُلفتِ عارض میں اِتنے داغ کھائے ہیں
کہ بُھولا ہے ہمارے دِل میں اک باغ اِرم اچّھا