رشک سوں تُجھ لباں کی سُرخی پر
جِگر لالہ داغ داغ ہوا
دہکتی آگ سے تن کو داغ داغ کیا.
( ۱۸۸۳ ، دربارِ اکبری ، ۷۷۷ ).
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِتظار تھا جِس کا یہ وہ سحر تو نہیں
اگرچہ مرا عقل جُوں ہے چراغ
ولے استے ہوں پر گھڑی داغ داغ
جل اُٹھے داغ داغ دِل کے دِئے
آگ کے کھون٘ٹ اج ہم نے ہئے
(۱۹۸۰ ، شہر سدا رنگ ، ۴۳ ).
ہوا غیب او جوہرے شب چراغ
سو جل بل اپس میں ہوئے داغ داغ
مِلا دستِ چپ ایک دلچسپ باغ
جِسے دیکھ کر خُلد ہو داغ داغ
ہمہ تن داغ داغ کی مُناسبت بھی شاخِ گُل ہو جانے کے لئے اثر سے ساعی ہو سکتی ہے.
( ۱۹۳۶ ، ریاض ( خیرآبادی ) ، نثر ریاض ، ۱۷۴ ).