جس وقت پلاؤ تیّار ہو جائے تو گھی کو داغ کر کے اُس پر ڈالیں.
(۱۸۴۵ ، مجمع الفنون ( ترجمہ ) ، ۵۶ ).
اب مرغ کو پیاز داغ کیے ہوئے گھی میں چھوڑ کر نمک اور دہی ڈال کر بُھونیے .
( ۱۹۴۷ ، شاہی دسترخوان ، ۵۲ ).
کیا ہے داغ بُتاں نے یہاں تلک مُجھ کو
برنِگ سروِ چروغاں جلوں ہوں سرتاپا
داغ کر میرے تنِ زار کو سر سے پا تک
یار نے سروِ چراغاں کا تماشا دیکھا