ایک دن بالکل نہ میں اے چارہ گر اچّھا ہوا
داغ اِدھر تازہ ہوا زخم اُدھر اچّھا ہوا
جِس بے دردی سے حیدرآباد کی تہذیب اور زبان کو کُچلا گیا اُس کا داغ میرے دل سے کبھی نہیں مٹ سکتا وہاں جاؤں گا تہ یہ داغ تازہ ہو جائے گا.
(۱۹۵۸ ، خطوطِ عبدالحق ، ۱۷۵ ).
بُجھ گیا تھا چراغِ رُسوائی
پِھر ہوا تازہ داغ ِ رُسوائی