ہستی کی خرابی جو نظر آتی جو عدم میں
اس خواب سے ہر گز بیدار نہ ہوتا
نہیں یاد کیا جانے کیا تھا عدم میں
کہ بالکل وہ ہم آکے ہستی میں بھولے
بت پرستی کی آواز جو تمام جزیرہ نماے عرب میں گونج رہی تھی بند ہوگئی ... بتوں نے عدم کا راستہ لیا .
( ۱۸۹۵ ، آیات بینات ، ۲ : ۷ ).
ہے کشمکشِ بود و عدم اور مری جان
بالیں پہ اِدھر موت اُدھر چارہ گر آیا
ہرزہ نغمۂ زیر و ہمِ ہستی و عدم
لغو ہے آئینۂ فرقِ جنوں و تمکیں
حضرت دانیال علیہ اسلام بسبب عدمِ اتباع امت خفا ہوکر پہاڑ پر جا بیٹھے .
( ۱۸۸۴ ، تذکرۂ غوثیہ ، ۲۷۷ ).
نماز اور عبادتِ اسلام کی یہاں تک پابندی تھی کہ بحالتِ عدم ادائیگی اس کے خود کو ایک جانور کے نام سے مخاطب کرتے ہیں .
( ۱۹۱۹ ، بابا نانک کا مذہب ، ۱۷۳ ).
صلحِ کُل مشرب اور عدمِ تشدد کو اس نے اپنا شعار بنا لیا .
( ۱۹۶۶ ، افکار حاضرہ ، ۲۱ ).