عہدِ عتیق کے صحایف کی سطر سطر اس حقیقت کی آئینہ داری کر رہی ہے .
( ۱۹۲۶ ،غلبۂ روم ، ۳ ) .
شاعر کا خواب عہدِ عتیق سے لے کر دورِ حاضر تک لاشعور کا نہیں بلکہ عالم شعور کا ... ہے .
( ۱۹۸۵ ، نقدِ حرف ، ۱۲۲ ) .
انبیاء سابقین کے قصے عہد عتیق کی کتابوں میں بھی آئے ہیں .
(۱۸۹۲ ، مکتوبات سرسید ، ۱۶۱) .
عہدِ جدید میں تو گائے کا ذکر نہیں ، عہدِ عتیق میں دو جگہ ذکر ملتا ہے .
( ۱۹۵۴ ، حیوانات قرآنی ، ۳۶ ) .