( تاریخی ا ُصول پر )


باد آوَر/آوَرْد (--- فت و ، سک ر) امذ  

۱. ازغیبی دولت وغیرہ جو بلا توقع ہاتھ لگ جائے (عموماً گنج کے ساتھ مستعمل).
۲. خسرو پرویز (شاہ فارس) کے ایک خزانے کا نام (جس کے ہاتھ لگنے کی صورت یہ بتائی جاتی ہے کہ قیصر روم نے ایک خزانہ کشتیوں میں لدوا کر اپنے مقبوجات میں بھجوایا ، اتفاق سے باد مخالف نے کشتیوں کو خسرو پرویز کے لشکر میں پہن٘چا دیا ، خسرو پرویز نے اس پر قبضہ کرلیا اور باد آورد نام رکھا) (عموماً گنج کے ساتھ مستعمل).
۳. ایک گچھے دار کان٘ٹوں کا پودا جو پہاڑوں اور ریگستانوں میں اگتا ہے، جوا سا (عموماً دوا میں مستعمل).
۴. (موسیقی) ایک سر کا نام
(جامع اللغات ، ا : ۳۷۴) .
۵. پنکھا
(جامع اللغات ، ۱ : ۳۷۴).