وہ گرم ہوا جس کے چلنے سے بہت جھڑ کا موسم آجاتا ہے.
جو داغ ہوا تازہ ، گل باغ محبت
ہر گز اسے وسواس نہیں باد خزاں کا
(۱۷۳۹، کلیات سراج ، ۱۶۲)
چلی گلشن میں جب باد خزانی
گیا بلبل کا لطف زندگانی
(۱۸۲۸ ، مثنوی نل دمن ، ۴۱)
وہ مستیاں وہ فلک پر دماغ پھولوں کے
نہ گل ہوں باد خزاں سے چراغ پھولوں کے
(۱۹۲۱، شمیم ، ریاض شمیم ، ۵ : ۱۷)
[ باد + خزاں (رک) / + ف : ی ، لاحقۂ نسبت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .