باد فروش اور باد خواں . . . امراح کی مداح میں کبت پڑھتا ہے.
(۱۸۴۵، ترجمہ مطلع العلوم ، ۱۹۲)
ہو یقین کیوں کر نہیں جب کوشش کسب کمال
شاعری ہے آج کل ہر باد خواں کی آرزو
وہ ان شعرا کی باد خوانی پر ہنسا کرتا تھا جو اس قصباتی خاندان کا سلسلھ نسب عہد قدیم کے سورماؤں تک پہنچانا چاہتے تھے.
(۱۹۲۹، تاریخ سلطنت رومہ ، ۵۷۰)