رہیا یوں توں آدم کے دلِ تنگ میں
کہ جیوں آگ پنہاں اچھے سنگ میں
اثر کرتا ہے نالہ آبرو کا سن٘گ کے دل میں
ہنر سِیکھا ہے شاید کوہکن سیں تیشہ رانی کا
سختی ایّام کی جو کہیے
ہوویں ابھی موم سن٘گ و آہن
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اس
سن٘گ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
عالمگیر مذہب کا خدا اس آب و گل اور سن٘گ و خِشت کی چہار دِیواریوں میں محدود نہیں.
(۱۹۲۳، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۷۷۳).
دل تو پھر دل ہے ٹُوٹتا ہے اگر
سن٘گ سے بھی نِکلتی ہے آواز
اُٹھتے ہی تیرے دگرگوں ہوگیا رنگِ نشاط
جام خال میکدے میں سن٘گ ماتم خانہ تھا
جوہری نے جوڑی کا اُٹھا کر بہ نگاہِ خریداری دیکھا رنگ ڈھنگ سنگِ نایاب پایا.
(۱۸۹۱، طلسمِ ہوشربا ، ۵ : ۴۶۳)
بہت بڑا نگینہ اور رنگ ڈھنگ ، سنگ سے درست.
(۱۹۲۴، خونی راز ، ۷۶)
[ ف ]
