عمارت میناروں کی اندر سے تو صرف سنگِ سرخ کی اور باہر سے سنگِ موسیٰ و سن٘گِ زرد و سن٘گِ مریم و سن٘گِ ابری کی بطور لہریا.
(۱۸۶۴، تحقیقاتِ چشتی ، ۱۲۵۳).
مسجد میں اول کے درجہ میں سن٘گِ ابری کا سہ درہ قابل دید اور لاجواب ہے.
(۱۹۰۵، یادگارِ دہلی ، ۱۷۷).
اس عمارت کا ازارہ اندر کی طرف سنگِ مرمر کا ہے اور باہر کی طرف سن٘گِ ابری کا.
(۱۹۶۳ ، تاج محل ، ۴۴).
[ سن٘گ + ابری (رک) ]
