پڑوں بُلبُل کے نمن حسن کا قِصّا سب شاخ
جِن نہ سمجھے یے قِصّا سینہ ہے اس کا سنگلاخ
ہوئے ہیں تنگ کئی اس قافیہ میں اہلِ سخن
میں نئیں کِیا ہوں کئی ایسی زمین میں سنگ لاخ
بہانے نہ کر میر اب شاخ شآخ
غزل کہہ زمیں گو کہ ہے سنگلاخ
اس راہ میں سنگلاخ منزلیں طے کرنی پڑیں گی.
(۱۹۱۳ ، مضامین ابوالکلام آزاد ، ۱۴).
آپ لوگ ایک سنگلاخ زمیں میں اُردو کا پودا لگا رہے ہیں جو ایک دن تناور درخت کی صورت میں نمایاں ہوگا.
(۱۹۸۸ ، قومی زبان ، کراچی ، اگست، ۳۳).
[ سنگ + ف : لاخ ، لاحقۂ ظرفیت ]
