چنیوٹ کے رہنے والے اور عبدالحکیم سیالکوٹ کے رہنے والے تھے چنیوٹ میں ایک مسجد ہے اس کے مِینار ہلائے سے ہلتے ہیں ، کہتے ہیں کہ سنگِ لرزاں کے ہیں.
(۱۸۸۰ ، آبِ حیات ، ۲۶۷).
کِتابوں کے علاوہ ان کے پاس تسبیحات ، نگینے ، سنگِ لرزاں کے ٹُکڑے ، قہوہ پِینے کے مشینیں غرض ایسا ہی کاٹ کباڑ بھرا رہتا تھا.
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۳ : ۱۹۱).
[ سنگ + ف : لرزاں ، لرزیدن = ہلنا ، کانپنا ]
