سالک راہِ فنا گُم کرے منزل کیونکر
سنگ ہر مقبرہ یاں سنگِ نشاں ہے اوس کو
طَے کس طرح سے ہووے رہِ عشق دیکھیے
سنگِ نشاں کا دخل ہے اس میں نہ مِیل کا
اگر اہلِ ہند کُچھ روز دنیا میں عِزَّت و آبرو کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنی ترقی کے راستے میں اِنہیں اصولوں کو سنگِ نشان خیال کرنا چاہئے.
(۱۹۰۷ ، مضامین چکبست ، ۲۸۵).
سرگرمِ سفر قافلہ ہے جانبِ منزل
ہم سنگِ نشآن نقش قدم دیکھ رہے ہیں
[ سنگ + نِشان (رک) ]
