اول بھوک پیاس پر کھڑے رہنا ، پچھیں مرداں میں بزرگی کی بات کہنا.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۵۴ )
ایتا درخت ہے کہ جس کے تلے کئی ہزار سوار کھڑے رہیں اس جگہ وہ دیونی رہتی ہے.
(۱۷۴۶ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۲۱۳ )
شہر پر چند بام کے ارتفاع تک پانی کھڑا رہا اور چند پہاڑ جو ندیوں کےکنارے پر تھے باہم ملکر ایک ہو گئے.
(۱۸۳۹ ، اعمال کرہ ، ۲۳۶ )
اب وہ زمیندار تو ہوا دستبردار ان میں کھڑا رہنے کا بوتا نہیں.
(۱۸۸۸ ، ابن الوقت ، ۱۴۷ )
آپ نے ہمارے خلاف جو جنگ کی ہے ہم اس سے ایسے تنگ آگئے ہیں کہ آئیندہ آپ کے مقابلہ میں کھڑے نہیں رہ سکتے.
(۱۹۱۲ ، مقدمہ تحقیق الجہاد ، ۴۸ )