جب صاحب سو کے اٹھے مجھے بلوا کے کہا کہ میں نے عہد کر لیا تھا کہا کہ آئندہ مستقل طور پر ہندوستانی عورت نہ رکھوں گا ، کھڑا کھیل فرخ آبادی کا مضائقہ نہیں.
(۱۸۹۳ ، نشتر ، سجاد حسین ، ۳۰ )
اسرار النکاح اور لذت النساء کے نکات ان کی بکھانی ہوئی باتیں تھیں ، کھڑا کھیل فرخ آبادی انہیں کے دم قدم سے ہوس کاری کے اسٹیج پر دکھایا جاتا تھا.
(۱۹۲۴ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۹ : ۱۰ : ۴ )
اور شادی بیاہ ... ہوتھ .. بس یہی کھڑا کھیل فرخ آبادی اچھا ہے ، ہڑ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آئے.
(۱۹۵۴ ، محلسرا ، ۱۱۵ )