اے بہمنی تجھ دار تھتاں آتے ہو جاتے
جیوں دار کا پُوجن کو بھتاں آتے ہو جاتے
او آ کر بلایا منجے بھار تے
سو نکلی نہ میں بھار اپن دار تے
بحری ہے امیدوار تیرا
جھاڑو دے پرا ہے دار تیرا
دارِ دنیا میں بجا ہے دب کے مر جانے کا ڈر
دیکھتے ہیں آسماں کے سقفِ بے دیوار ہم
تجھ کو دیتے ہیں دعا آرام سے بیٹھے ہوئے
دارِ حیرت ہے ترا در ہر گدا کے واسطے
سدا دار پر تجھ طبل باجتے
طبل باجتے ہور مندل گاجتے
اُس دو کوں اپس کے دل ستی کاڑ
اس دو کہ نہ دار پر اپس پاڑ
نوکِ مژگاں کے جو آتے ہیں خیال
سامنے رہتے ہیں ہم کو دار کے
کہے اس دار میں کوں اب مجھے پیاری
کہ میرے قدردانوں کی ہوئی خواری
دار نام ہے اوس احاطہ کا جس کے گرد حدود ہوں .
(۱۸۶۷ ، نور الہدایہ ، ۳ : ۳۵)
ناشناس اہلِ وطن جب ہوں وطن ہے کو ردہ
اقربا عقرب سے بدتر دار سے بہتر ہے دار
اے بہمنی تجھ دار تھتاں آتے ہو جاتے
جیوں دار کا پُوجن کو بھتاں آتے ہو جاتے
[ ع : (دور) ]
