دار
ُ السُّرُور
(--- ضم ر ، غم ال ، شدس بضم ، و مع)
امذ
خُوشی کا گھر ؛ (مجازاً) بہشت .
ظاہر ہیں تُجھ بہار میں اسباب عیش کے
ہے جلوہ گر تُجھی سوں یو دارالسرورِ صبح
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۷۲)
دارالسرور میں بھی کروں سجدہ پائے خم
مسجد سے شوقِ خانۂ خمّار لے چلے
(۱۸۴۶ ، آتش ، ک ، ۲۴۳)
اس حال پر ہے غرور مجھ کو
دنیا ہے دارالسُّرُور مجھ کو
(۱۹۶۲ ، گل نغمہ ، عبدالعزیز خالد ، ۱۱۲)
[ دار + رک : ال (۱) + سُرُور (رک) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .