رو برو اور آنکھ اوجل ایک سا ہو جس کا پیار
اس طرح کا کوئی نظر آتا نہیں یاراں کے بیچ
لطف جب ہے کہ غم فرقت میں
ایک سا حال ہو میرا ان کا
چراغ کعبہ و دیر ایک سا ہے چشم حق بیں میں
محب جھگڑا ہے کوری کے سبب شیخ و برہمن کا
حال کب ہے شام سے اپنا سحر تک ایک سا
دوپہر تک ایک سا ہے ، دوپہر تک ایک سا
رہے حال دل کا جو ایک سا نو رجوع کرتے کہیں بھلا
سوتو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے
[ ایک + سا (رک)]
