یہ شعلہ عشق کا حسنِ ازل کا نور ہے گویا
جلا ہے جب سیں سینا تب میں کوہ طور ہے گویا
حسن ازل کہ پردہ لالہ و گلی میں ہے نہاں
کہتے ہیں بیقرار ہے جلوۂ عام کے لئے
حسنِ ازل رہے نظر دولتِ عشق لٹ نہ جائے
گرمی مہر و ماہ میں دیدۂ چشمِ تر بھی ہے
[ حُسن + ازل ( رک ) ]
