سہیلیاں ارد گرد سنوار رہی ہیں عطر لاؤ غازہ لاؤ پکار رہی ہیں حسن دان سامنے ہے کس ٹھسّے سے مشاطہ چوٹی گوندھ رہی ہیں خدا ہی خیر کرے .
( ۱۸۸۰، فسانۂ آزاد ، ۱ : ۳۸ )
وہ سادہ مزاج کوہستانی دلر بائیں جنکو زمانے نے اپنے پر تکلف سونے چاندی اور جواہرات کے زیور سے محروم رکھا ہے انکے لیے تو نے اپنا قدرتی حسن دان کھول دیا ہے .
( ۱۹۲۶، شرر ، مضامین ، ۱ : ۱۹۶ )
پان کی قسم سے کسی اور مصالحہ کی ضرورت ہو تو وہ سامنے صحنچی میں مقابلہ حسن دان وغیرہ موجود ہے لے آنا .
( ۱۸۸۸، طلسم ہوشربا ، ۳ : ۷۹ )
کلس دار پاندان ایجاد کئے جو پہلے تو آرام دان کہلائے مگر اب عموماً حسن دان کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں .
( ۱۹۲۶ ، شرر ، مشرقی تمدن کا آخری نمونہ ، ۵۰۰ )
[ حُسن + ف : دان ، لاحقۂ ظرفیت ]
