نے تاج نہ کچھ نگیں سے مطلب
فضلِ حُسن آفریں سے مطلب
جلوے سے تیرے شانِ حُسن آفریں ہے پیدا
تنویر سے ہے تیری نور ازل ہو یدا
انفرادیت کی دستار کو سنبھالے رکھنا دست حسین آفرین کی اولین ذمہ داری ہے .
( ۱۹۸۶، قافیہ پیمائی ، ۱۰ )
[ حسن + ف : آفرین ، آفریدن - پیدا کرنا ]
