عطارد نے آکر دھریا پک پہ سیس
قلم دان لے کر ہوا خوش نویس
کسی پاس قلمدان ہے پاس عہدہ رکھنے کا ہیروں کا خوانچہ ہے .
(۱۷۷۶ ؟ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۱۹۴ ) .
چھیڑا نہ کرو میرے قلمدان کے کاغذ
پس اسمیں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ
شیخ آنر کے لئے آتے ہیں میدان کے بیچ
ووٹ ہاتھوں میں ہے اسپچ قلمدان کے بیچ
ماسٹر صاحب کی کچھ کتابیں اور کتابوں کے علاوہ ایک قلم دان بھی ہے .
(۱۹۷۵، خاک نشین ، ۱۲ ) .
نئے سر سے قلمدان وزارت کا عنایت فرمایا .
(۱۸۰۲، باغ و بہار ، ۱۹۳ ) .
وہ تمام وقت اقتدار میں شرکت اور قلمدانوں کی تقسیم پر بات کرتے رہے .
(۱۹۷۷، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ، ۴۵ ) .
[ قلم + دَان ، لاحقۂ ظرفیت ] .
