اچا تیغ جب لے کرے ماو علم
اویک تیغ دس نیزے کرتی قلم
ایک تلوار ماری کہ سیدھا ہاتھ اس کا قلم کیا .
( ۱۷۳۲ ، کریل کتھا ، ۱۵۸ ) .
دوستوں کے سر کیے چُن چُن کے مقتل میں قلم
چشمِ بینا ہے اک جوہر تری ششیر کا
کیونکر مجھے خط رقم کریں گے کیا غیر کا سر قلم کریں گے
( ۱۸۵۵، کلیات شیفتہ ، ۸۹ ) .
وہ قدم جو راہِ مستقیم سے بھٹک جائیں قلم کر دینے کے لایق ہیں .
( ۱۹۲۸ ، مرزا حیرت ، مضامین ، ۳۲۱ ) .
اگر کوئی شودر و بد کے منتر کو جان بوجھ کر سنے تو اس کے کانوں میں میسہ پلا دینا چاہیے ، اگر وہ اُس کا تلفط کرے تو اس کی زبان کو قلم کر دینا چاہیے .
( ۱۹۶۲ ، فن تحریر کی تاریخ ، ۲۹۴ ) .
زکوٰۃ مال کی دے باغباں جو اک کتئیں
قلم کرے ہے تو لگتے ہیں پھر بہت انگور
اگر باغ کا مالک کسی درخت کو قلم کرنے یا کاٹ ڈالنے کا حکم دے ، مالی کو یہ کہنے کا کب منصب ہے کہ میں نے اس درخت کو بڑی محنت سے بالا ہے .
( ۱۹۲۴ ، انشائے بشیر ، ۸۵ ) .
اسکے ہونے کی دو ترکیب ہیں ایک تو بیج ہوتے دوسرے قلم کرنے ہیں .
( ۱۸۴۵ ، دولت ہند ، ۱۰۴ ) .
