تو شہِ دریا نوال اور دل ترا موجِ کرم
ہے سخاوت سے تری دستِ قلم زن آب میں
فن انشا میں ایسا قلم زن ہے کہ جس کے آگے نام منشیوں کا قلم زن ہے .
(۱۸۵۴، پالی گلاٹ ، ۱۲۵) .
اُسے اپنے ہاتھ سے قلم زن کرکے کلرک کو آگاہ کردیا کہ ـ ـ ـ اس خاص رعایت سے مجھے مستفید ہونے کی اجازت دی ہے .
(۱۹۸۰، مشاہیر سرحد ، ۱۳۳ ) .
[ قلم + ف : زن ، زدن = مارنا ، چلانا ، کاٹنا ] .
