آج دو دو ہاتھ اس ابرو سے کیجے دوبدو
گو کرے دن کو مرے وہ تیغِ خوں آشام شام
آپس میں دو دو ہاتھ گر لیجیے جو مارا پڑے وہ جہنم میں جائے جو بچے ان کو قبضے میں لائے .
(۱۸۲۳ ، حیدری ، مختصر کہانیاں ، ۱۸۷)
میرے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے وہ مجھ سے فارغ خطی لکھوانا چاہتے تھے .
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۱۱۷)
