غدوی نے ہزاروں ہی مرغ پال ڈالے اور کیا کیا نہیں پالے انار ... دوباز ... مگر حضور پر پھر کے الف ہی پر آگئے.
(۱۹۵۴، اپنی موج میں ، ۲۷)
رنگ کبوتروں کے یہ ہیں ... دوباز ... پیازی یاہو وغیرہ.
(۱۸۷۲، رسالہ سالوتر، ۵۱:۲)
رنگ مرغِ اصیل کے یہ ہیں : لاکھا ... دوباز، سیاہ.
(۱۸۸۳، صیدگاہ شوکتی ، ۱۹۱)
اُڑنا دوباز کا ہے وہ شوخی کی دستگاہ
دیکھے تو باز جرّے کو ہو اس کی دل سے چاہ
[ دو + باز = بازو ]
