برس دو ایک گُزرے گھے کہ کتنے اوباش اور بدمعاش محلے کے اس سے ملے.
(۱۸۰۱، باغِ اردو، ۲۸)
بوڑھے کو دو ایک ماجرا اپنے وقت کا مثال میں یاد آتا ہے.
(۱۸۴۸، تاریخِ ممالکِ چین (ترجمہ)، ۳:۱)
شوخیاں کرکے بھی شوخی نہیں جاتی تیری
کی ہیں دس بیس جو تونے تو گِنی ہیں دو ایک
ہم تو پردیسی ہیں دو ایک دن میں واپس چلے جائیں گے.
(۱۹۸۲، ہندیاترا ، ۲۵۱)
گھوڑا ... دو برس سے گُزر کر چار برس کی عمر تک دو ایک کہلاتا ہے.
(۱۸۷۲، رسالہ سالوتر، ۷۱)
[ دو + ایک (رک) ]
