دورنگی خوب نییں یک رنگ ہو جا
سراپا موم یا سنگ ہو جا
دو رنگی زمانے کی مشہور ہے
کبھی سایہ ہے اور کبھی نور ہے
باغِ دنیا کی دورنگی مجھ معلوم نہ تھی
ان گلوں سے صفتِ ہو میں گریزاں ہوتا
ہم ہیں یک رنگ دورنگی تیری
کچھ پسند اے گلِ رعنا نہ ہوئی
چونکا ہوں خواب سے ابھی محفلِ یار دیکھ کر
سکتے میں ہوئی دورنگی لیل و نہار دیکھ کر
نہ کیوں ہو ہر بات میں دورنگی دماغ رہتا ہے آسماں پر
وہ شوخ مستِ شباب بھی ہے غرورِ حسن و جمال بھی ہے
مہرو اور دورنگی جوسوں میں شکر
چُھپا دل میں کڑوای کرتی مَکر
سب پر ہے کرم مجھ پہ ستم کیا ہے دورنگی
دِلدار کسی کا ہے دل آزار کسی کا
آخر دورنگی اس گُلِ رعنا پہ کُھل گئی
لوگوں کو دیکھ کر جوعدو نے چھپائے گل
دو رنگی بُتِ ناآشنا نے لوٹ لیا
وفا کا بھیس بنا کر جفا نے لوٹ لیا
حقیقت میں نہیں نقش و نگار اپنے تو یاں قائم
دِکھائی دے ہیں جو تجکو زمانے کی دورنگی سے
اگر یہی تہذیب ہے تو یہ ہم کو دورنگی اور مکر سکھاتی ہے .
(۱۸۸۰ ، تہذیب الاخلاق ، ۷۵)
[ دو + رن٘گ (رک) + ی ، لا حقۂ صفت ]
