اس زبان میں تیرہ حرفوں کی آواز ہے میں مِلی رہتی ہے اس واسطے اس کو دو چشمی ایسی ھ لکھتے ہیں تاکه اصِل خالص سے فرق معلوم ہووے .
(۱۸۵۵، تعلیم الصبیان ، ۲۳)
ہائے ہوز کو اگر کبھی دو چشمی شکل دیتے تو اس مقام پر جہاں وہ مخلوط التلفظ نه ہوتی .
(۱۹۳۴، اردو ، کراچی ، اپریل ، ۲۲۶ )
اس قدر زیادہ بلند ہو که آنکھ سے نه پڑھا جا سکے تو دو چشمی سے پڑھ سکتے ہیں .
(۱۹۴۴، مٹی کا کام ، ۱۱۶ )
