عنایت کا دوپٹہ اُڑا کر میرے معشوق کوں لیاؤ.
(۱۴۲۱، بندہ نواز ، معراج العاشقین ، ۲۶)
آج اوڑھا ہے دوپٹّہ آسمانی یار نے
میرے سر کو بھی بلائے آسمانی چاہیئے
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ پٹںے دیتا تھا
اسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
جو پٹکا نہیں تو نہیں کچھ خلل
کمر میں دوپٹا سموسے کا بل
دوپٹا گلے ڈال دی اس کو پیچ
کرے زندگی اس بیچارے کی پیچ
حافظ جی کے پاس جاتا ہے تو ان٘گرکھا اور دوپٹّہ اُتار کر رکھ جا.
(۱۸۶۸، مراۃ العروس، ۶۹)
شاہ موصوف ... بان٘کوں کی طرح دوپٹہ سر پر ٹیڑھا ہی باندھتے تھے.
(۱۸۸۰، آبِ حیات، ۱۱۳)
اف: اُتارنا، اوڑھنا، بان٘دھنا
[ دو + پٹ (رک) + ا ، لاحقۂ کیفیت ]
