شیروں سیں جادو بات کرے ریختہ مرا
رستم میں چل کہ بات کرے ریختہ مرا
کاٹا وہیں سر تن سے مقابل جسے پایا
دو ہاتھ لڑی جنگ کے قابل جیسے پایا
پھر مقابلے کے لئے مورچہ باندھو ، آؤ پہلے اس کی کوشش کریں کہ ہمارا لشکر سائنس کے قواعد سے خبردار ہو جائے اس کے بعد دو ہاتھ کرنے کو آگے بڑھے .
(۱۹۱۱ ، سی پارۂ دل ، ۱۷۹)
