ان دو جہاں تھے جدا یعنی دین و دنیا تھے کفر و اسلام تھے .
(۱۵۸۶ ؟ ، کلمۃ الحائق ، ۵۵ )
عجب کیا جو کرے جوش یو مستی دو جہاں میں
منُجے ساقی اگر یُونچ بھرے جام دویگا
عدّل کا ہمارے ٹِھکانا کہاں
سِوا تجھ فضل مالکِ دوجہاں
بنایا ذوق جو انسان کو اُس نے جزوِ ضعیف
تو اُس ضعیف سے کُل گاہ دوجہاں کے لیے
وہ دل جو ہے آئینه اسرارِ پنہاں وعیاں
وہ دل جو ہے گنجینۂ رازِ وجود دو جہاں
تُو نے اے معبودِ برحق بالیقیں
حرفِ کن سے دوجہاں پیدا کیے
[ دو + جہاں (رک) ]
