اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ پوچھے ہے بار بار
کچھ وجہ بھی کہ آپ کا منھ ہے اُتر رہا
تیرے شب ِچہار دہم کے بناؤ سے
دو دن میں ماہتاب کا کچھ منہ اوتر گیا
ہوچکی وصل کی شب آپ کا منھ اوترا ہے
ہے اوداس آج بہت صبح بہارِ عارض
توبہ توبہ ، جھوٹ سفید جھوٹ برا نہ مانیے ، اسی جھوٹ سے آپ کا منہ اتر رہا ہے ۔
(۱۹۲۱ ، گورکھ دھندا ، ۴۶) ۔
اسکا منہ اُتر گیا تھا ، وہ جلدی سے کمرے میں چلی گئی ۔
(۱۹۶۲ ، آنگن ، ۱۰۵) ۔
کانپ رہے ہیں ظالم سلطاں ٹوٹ گئے دل جباروں کے
بھاگ رہے ہیں ظل ِالٰہی منہ اُترے ہیں نمداروں کے
میاں کا منھ دیکھو کیسا اُتر گیا ہے ۔
(۱۹۸۵ ، کچھ دیر پہلے نیند سے ، ۸۱) ۔
