ننگ و ناموس کو مجروحوں کی رکھ ِمدنظر منہ بھرائی میں مری جان لے اے زخم ِنظر
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۴۰۵) ۔
بھر دیا زخم میں نمک اوس نے
یہ دعاگو کی منہ بھرائی ہے
منہ بھرائی کے طور پر ایک ایک ٹکڑا ساتھیوں کے سامنے ڈال دیا ۔
(۱۹۳۵ ، چند ہم عصر ، ۳۸۱) ۔
کہہ رہا ہے زخم ِتیر ِبے نمک
منہ بھرائی کا مزہ جاتا رہا
[منھ + بھرائی (بھرنا (رک) کا حاصل مصدر)]
