ہوئی بلبل ثناخوانِ دہانِ تنگ کس گل کی
کہ فروردیں میں غنچہ کا منہ اتنا سا نکل آیا
کس نے دہن یہ غنچے کو یارب دکھا دیا
اتنا سا ہو گیا ہے جو منہ اس غریب کا
صبح پیری کی منحوس صورت دیکھتے ہی چہرہ اتر گیا ، منہ اتنا سا نکل آیا ۔
(۱۹۲۳ ، مضامین شرر ، ۱ ، ۱ : ۲۱۳) ۔
