چچی اماں سے میرے تعلقات اب اس برائے نام منھ بولے رشتے کے نہیں رہے تھے ۔
(۱۹۳۵ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۲۲ ، ۲۰ : ۴) ۔
میر نے اس کے بعد … اپنے منہ بولے چچا سید امان اﷲ کی وفات کا ذکر کیا ہے ۔
(۱۹۸۵ ، جہان میر ، ۱۰۶) ۔
ایسے سناٹے میں وہ بھاؤ کا اعلان تو قاعدہ کے مطابق ضرور ہی کیا کرتے مگر منھ بولا ۔
(۱۹۸۷ ، ابوالفضل صدیقی ، ترنگ ، ۲۰۷) ۔
یہ شبہ آج حقیقت کا منہ بولا روپ ہے ۔
(۱۹۷۱ ، دیوار کے پیچھے ، ۱۰) ۔
