میاں الگ اکڑے بیٹھے ہیں اور بی بی الگ منھ اوندھائے لیٹی ہیں ۔
(۱۸۶۸ ، مرآۃ العروس، ۱۲۹) ۔
دن بھر گھر میں سر منہ اوندھائے اٹواٹی کھٹواٹی لئے پڑے رہتے ۔
(۱۹۱۹، جوہر قدامت، ۹۹) ۔
وہ چپ پڑا تھا ، منہ اوندھائے ۔
(۱۹۸۲ ، خدیجہ مستور ، بوچھار ، ۱۴۹) ۔
کافر مونہ اوندھا کر چلتا ہے اس لیے اس کو راستہ نہیں سوجھتا اور مومن سیدھا سر اٹھا کر چلتا ہے اور اس کو راستہ سوجھ پڑتا ہے ۔
(۱۸۹۵ ، ترجمہ قرآن مجید ، نذیر احمد ، ۲ : ۸۵۵) ۔
ایک چیخ مارتی ہے اور منھ اوندھا کر کے پڑ جاتی ہے ۔
(۱۹۷۳ ، ممتاز شیریں ظلمت نیم روز ، ۱۰۵) ۔
