کہیں ہو تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے
جدھر کو منھ اُٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں
منھ اُٹھا کر نہ چلو اونٹ کی چال اے بنو
کھاتی اندھوں کی طرح راہ میں ٹھوکر کیوں ہو
دماغ کو دونوں ہاتھوں سے دبا کر چنگھاڑتے ہوئے اندھیرے میں ایک طرف منہ اُٹھا کر چل دیا ۔
(۱۹۴۲ ، طلوع و غروب ، ۴۶) ۔
