اے آنسوؤ نہ آوے کچھ دل کی بات منھ پر
لڑکے ہو تم کہیں مت افشائے راز کرنا
سنتا نہیں اگرچہ ہمارا نگار بات
پر منھ پہ آہی جاتی ہے بے اختیار بات
بھید کھلا اشک ِخونیں سے
جو دل میں تھا منہہ پر آیا
اگر تیشہ نہ کرتا دستگیری اس بچارے کی
یقیں ، فرہاد تیغ ِکوہ کے کب منھ پہ آسکتا
آگے مرے بڑھ بڑھ کے نشاں فوج کے کھولے
منہ پر کئی بار آگئے تلواروں کو تولے
منھ پر آنا بمعنی مقابل ہونا عام اور مستعمل ہے اور ہر لغت میں موجود ہے ۔
(۱۹۹۱ ، شعر شور انگیز ، ۲ : ۶۴۲) ۔
عزت نہیں اوس صید کی مرغان ِحرم میں
جو صید کہ آیا نہ ترے تیر کے منہ پر
ایما یہی حسام کا وقت ستیز ہے
مونہہ پر مرے نہ آؤ زباں میری تیز ہے
روئے گلرنگ پہ آخر خط سبز آہی گیا
ہے مثل جس سے ڈرو ہے وہی آتا منھ پر
خط نمودار ہوا وصل کی راتیں آئیں
جنکا اندیشہ تھا منہ پر وہی باتیں آئیں
کیا منہ ہے بدر کا جو ترے منہ پر آسکے
ناخن کا تیرے حسن نہیں ہے ہلال میں
کوئی کنکھجورا میری گردن پر ہولے ہولے رینگ رہا ہے ابھی وہ میرے منہ پر آ جائے گا ۔
(۱۹۸۸ ، آتش زیر پا ، ۲۷) ۔
