رکا تسہ یسہ فرس بسد لگام عمر رواں
اگرچہ دررۃ آفاق بھی دباقہ ہوا
ہوں رام کرنے کو دہل کے سورما موجود
سمند لندن اگر بسد لگام ہو جائے
جو اوبد گہر نے ہوا لگام
گیا اب نے تجھ سنگ کوں لحل فام
شہر یار : تو کیا عشق و محبت پر سپہ سالاری کی مہر لگی ہوتی ہے ؟
-
طفرل : چپ بد لگام !
( ۱۹۰۹، خوبصورت بلا ،۶۷ )
اسم کیفیت : بد لگامی .
-
جبکہ انسان کی اخلاقی تعلیم طغولیت کی حالت میں تھی اور اس کی منہ زوری اور بد لگامی کا چنداں انسداد نہ ہوا تھا .
( ۱۸۷۹، مقالات حالی ، ۱ : ۱۱۸ )
راز و نیاز کی شہگام وفا و جفا کے کاوے ایڑن وصال کی ہوئی ہجر کی بد لگامی بگاڑ اور بناو کی دلکی سے جولاں گاہ دماغ گھوڑ دوڑ کا میدان بن .
(۱۹۱۵ ، سجاد حسین ، حاجی بغلول . ۸ )
[ بد + لگام ( رک ) ]
