اس پر کچھ چنت نکوتے
وونہوں جگ میں بدنام ہوۓ
عشق کے نام سے یارب کوئی بدنام نہ ہو
خاص میں شورش وحشت کی خبر عام نہ ہو
اسلام جیسے پاک مزہب کو پیٹ بھر کر بدنام کیا.
(۱۹۳۲، گرداب حیات ، ۸۶ )
کسی گھوڑے کو گر ہوجاۓ بدنام
تو پھر میں جو کہوں تو کر وہی کام
کوئی لکھتا ہے بیل کوئی خنام
کوئی بدنام اور کوئی گمنام
اسم کیفیت : بدنامی .
یہاں بادشاہی غلامی اہے یو بدنامی نہیں نیکنامی ہیں
(۱۶۰۹، قطب مشتری ،۲۳)
بدنامی کیا عشق کی کہیے رسوائی سی رسوائی ہے
صحرا صحرا وحشت بھی تھی دنیا دنیا تہمت بھی
اس نے کہا ہم آپ کی بدنامی کے ڈر کے مارے کب تک ... تو گوارا کرینگے.
(۱۹۱۴، مقالات شبلی ، ۱۳۱:۸)
[ بد + نام (رک) ]
