عاشق بد مست ہو کر بھرے شیشے کوں نہیں پھوڑتا.
(۱۶۳۵. سب رس ، ۱۱۳)
وہ . . . بے حیا بھی بدمست ہو کراس مردود سے بیہودہ ادائیں کرنے لگی.
( ۱۸۰۲. باغ و بہار، ۵۶)
بدمست مجھ کو غیر کو ھشیار دیکھکر
ساقی نے دی ہے ظرف قدح خوار دیکھکر
دختر رز بڑی ہی ہے بد مست
کب سے فدوی کے تئیں رکھے ہے تاک
اسم کیفیت : بدمستی .
-
ولے فرق اس میں مستی ھور بدمستی کا.
( ۱۶۳۵، سب رس ، ۱۱۴)
فرانس اور روس . . انگلستان کی بدمستی سے روم کو بچانے کے لیے اس کے چپ و راست موجود ہوگۓ.
(۱۸۹۰، بست سالہ عہد حکومت ، ۳۲۳ )
بدمستی کی تہمت اور ہم رندوں پر
دے پٹکیے اپنے آگے اب کس کا سر
[ بد + مست ( رک ) ]
