اس دل کی خو ہے روکے اٹھے سر پٹک پڑے
یارب نہ بد مذاج کوئی یاں قلک پڑے
نیک مزاجوں کی صحبت میں بیٹھ بد مذاجوں سے کبھی میل نہ کرو.
(۱۸۵۴ اردو کی دوسرہ کتاب ،اسماعیل ، ۹ )
اسم کیفیت : بدمزاجی .
بدمزاجی دل بیمار کی لاحول ولا
روگ لایا تو بہت دق وہ مسیحا ہوگا
کون تھا جس کے درباری اس کی بد مذاجی سے اس قدر خائف رہتے تھے کہ اکثر اوس کے پاس کفن پہن کر جاتے تھے.
( ۱۹۲۴، شبلی ، مقالات ، ۸: ۴۲ )
[ بد + مزاج ( رک ) ]
