بد یمن سمجھ کے گور کا نام
پنجرہ اک لائی وہ گل اندام
مجنوں کو جب دی اگیا وہ بھی ہوا خراب
بد یمن ملک عشق میں اپنا خطاب تھا
اسم کیفیت : بد یمنی ۔
سوا اس قوم کے اوروں کے نزدیک
کچھ اس بھنوری کی بد یمنی نہیں ٹھیک
دوسرا امر اد کی بدیمنی ۔ ۔ ۔ کا یہ ہے کہ وہ ۔ ۔ ۔ آشوب جہاں مھتر توفیق بھی بدر منور کے ساتھ گیا ہوا ہے۔
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۷۱۸)
[ بد + یمن ( رک ) ]
