بد راہ ان دنوں میں از بکہ ہوگئے ہو
تیری گلی میں آکر پھرتا نہیں ہے کوئی
پیارا جو نہ تھا تو کھو گئیں کیوں
بد راہ بھی آپ ہوگئیں کیوں
تیرے کنبے کے جلا ہے موے جاہل بد راہے گنوارے سلیقہ چمار بے طریقہ.
(۱۹۰۱، راقم ، عقد ثریا ، ۴۰)
وہ راہ سے چوکے جو ظفر راہ پہ آکے
شاید کسی بد راہ کے بہکائے پہ چوکے
ان لوگوں کو قتل کرنے اور ختم کرنے میں . . . وہ بدراہ ہوگیا تھا.
(۱۹۶۹، تاریخ فیروز شاہی، ۶۹۵)
اسم کیفیت : بدراہی .
-
جوانی کی گرمی سے اس کے دل میں بدراہی کے خیال جوش کرنے لگے.
(۱۸۳۴، تعلیم نامہ، ۵۲ )
حسینی کی بد راہی کی بابت کسی کو ذرا برابر شک و شبہ نہ تھا.
(۱۹۵۲، بیگمات اودھ، ۱۰۴)
[ بد + راہ (رک) ]
