مزاج اپنا اس وقت لاوبجا
کہ عالم میں یہ بات ہے بد نما
دولھا اہل برات کی طرف نظر دوڑایا ہے ۔ ۔ ۔ اس واسطے کہ کوئی براتی بدنما نہ ہو۔
(۱۸۲۳، حیدری ، مختصر کہانیاں، ۵۳)
تیمور کے متعلق جو باب لکھا ہے اس میں ترکوں کو اس قدر سراہا ہے کہ مضمون بدنما ہو گیا ہے۔
(۱۹۳۰ تیمور ، ۴۵۶)
اسم کیفیت : بد نمائی .
-
یہ کو دک ظبع کیا جانیں کہ میں جور معلم ہوں
پڑا ہے چہرہ نیکی پہ پردہ بد نمائی کا
[ بد + نما ( رک ) ]
