حسن ہی ہے میرزائی کی تلاش
وہ نہیں معشوق جو ہو بدمعاش
دل کا معاشی غم اسے غم کی تلاش ہے
ڈرتا ہوں دل سے میں یہ بڑا بدمعاش ہے
صرف مطلب یہ تھا کہ ان شہروں بدمعاشوں کے پھندے اور قید سے تمکو بچائیں.
( ۱۸۹۲، خدائی فوجدار، ۵۱:۱ )
لڑکیاں جس قدر شریر بدمعاش اور بے ایمان ہوں اسی قدر قابل تعریف ہیں.
( ۱۹۳۶، راشدالخیری ، گرداب حیات ، ۷ )
اس میں بھی شک نہیں کہ لندن میں بدمعاش بھی پورے ہوتے ہیں.
(۱۸۲۹، مسافران لندن ، ۲۸۹ )
پولیس نے اصل مجرموں میں ایک بڑے بدمعاش نامی شور کو بھی گرفتار کیا تھا.
(۱۹۱۵، سجاد حسین ، کایا پلٹ ، ۴۴)
اسم کیفیت : بدمعاشی .
طالب علم بھی لاثانی ہیں ، پڑھنے میں نہیں بدمعاشی میں.
(۱۹۴۷، فرحت ، مضامین ، ۳:۴)
[ بد + معاش ( رک ) ]
